NewsWorld
PredictionsDigestsScorecardTimelinesArticles
NewsWorld
HomePredictionsDigestsScorecardTimelinesArticlesWorldTechnologyPoliticsBusiness
AI-powered predictive news aggregation© 2026 NewsWorld. All rights reserved.
Trending
IranIranianStrikesLaunchSupremeCrisisChinaMarchSecurityTimelineLeaderDigestSundayPowerFacesSignificantKhameneiRegionalMilitaryIsraeliTrumpHezbollahEmergencyProtests
IranIranianStrikesLaunchSupremeCrisisChinaMarchSecurityTimelineLeaderDigestSundayPowerFacesSignificantKhameneiRegionalMilitaryIsraeliTrumpHezbollahEmergencyProtests
All Articles
علی خامنہ ای کی ہلاکت : ایران کے رہبرِ اعلیٰ کا عہدہ کیا ہے اور اس کا انتخاب کیسے ہوتا ہے
bbc.com
Published about 7 hours ago

علی خامنہ ای کی ہلاکت : ایران کے رہبرِ اعلیٰ کا عہدہ کیا ہے اور اس کا انتخاب کیسے ہوتا ہے

bbc.com · Mar 1, 2026 · Collected from GDELT

Summary

Published: 20260301T064500Z

Full Article

ایران کے رہبرِ اعلیٰ کا عہدہ کیا ہے اور اس کا انتخاب کیسے ہوتا ہے؟کم ڈیٹا استعمال کرنے کے لیے صرف تحریر پڑھیں،تصویر کا ذریعہGetty Images1 مار چ 2026، 08:27 PKTاپ ڈیٹ کی گئی 2 گھنٹے قبلمطالعے کا وقت: 8 منٹجمعے کو تہران پر امریکی و اسرائیلی حملے میں ہلاک ہونے والے ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای ملک کی سب سے طاقتور شخصیت تھے۔ایران کے آئین میں رہبر اعلیٰ کا عہدہ سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد آیت اللہ خمینی کی قیادت میں تخلیق کیا گیا تھا اور وہ تین دسمبر 1979 کو ملک کے پہلے رہبرِ اعلیٰ مقرر ہوئے تھے۔آیت اللہ خمینی ساڑھے نو برس تک اس عہدے پر فائز رہے اور 1989 میں ان کی وفات کے بعد آیت اللہ علی خامنہ ای کو ملک کا دوسرا رہبرِ اعلیٰ چنا گیا اور وہ 28 فروری 2026 کو اپنی موت تک ساڑھے 36 برس یہ ذمہ داری نبھاتے رہے۔نئے رہبرِ اعلیٰ کے انتخاب تک کنٹرول کس کے پاس؟ایرانی آئین کے آرٹیکل 111 کے مطابق، رہبرِ اعلیٰ کی موت سے لے کر مجلسِ رہبری کی جانب سے نئے قائد کے متعارف کروائے جانے تک، تین رکنی کونسل عارضی طور پر قائدانہ فرائض سنبھالتی ہے۔ اس کونسل کے ارکان میں ملک کے صدر، عدلیہ کے سربراہ، اور شوریٰ نگہبان کے ایک فقیہ ہوتے ہیں جنھیں 'مجمع تشخیص مصلحت نظام‘ نامی ادارے کے ذریعے منتخب کیا جاتا ہے۔تاہم، اس تین رکنی کونسل کو مکمل اختیار حاصل نہیں ہوتا اور مندرجہ ذیل صورتوں میں، اس کے فیصلوں کو صرف ’مجمع تشخیص مصلحت نظام‘ کے تین چوتھائی اراکین کی منظوری سے نافذ کیا جا سکتا ہے:1- نظام کی عمومی پالیسیوں کا تعین2- رائے شماری کے حکم نامے کا اجرا3- جنگ یا امن کا اعلانSkip سب سے زیادہ پڑھی جانے والی and continue readingسب سے زیادہ پڑھی جانے والیEnd of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی4- صدر کا مواخذہ5- چیف آف جوائنٹ اسٹاف، پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر انچیف، یا اعلیٰ فوجی اور قانون نافذ کرنے والے کمانڈروں کی برطرفی اور تقرری۔اگر رہبرِ اعلیٰ بیماری یا حادثے کی وجہ سے عارضی طور پر اپنے فرائض انجام دینے سے قاصر ہو تو بھی یہ کونسل اسی حیثیت سے اپنے فرائض سنبھالتی ہے۔،تصویر کا ذریعہGetty Imagesمجلسِ رہبری اور رہبر اعلیٰ کا انتخابمواد پر جائیںبی بی سی اردو اب واٹس ایپ پربی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیںسبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریںمواد پر جائیںایران اس وقت دنیا میں اہل تشیع آبادی کی اکثریت والا سب سے طاقتور ملک ہے اور ملک کے آئین کے مطابق سپریم لیڈر صرف ایک آیت اللہ بن سکتا ہے، جو اہل تشیع کا مذہبی رہنما ہوتا ہے۔ تاہم جب علی خامنہ ای کا انتخاب ہوا تھا تو وہ آیت اللہ نہیں تھے۔ اس سلسلے میں قانون بدلے گئے تھے تاکہ وہ یہ عہدہ سنبھال سکیں۔ایران میں 88 علما کا ایک ادارہ جسے 'مجلسِ رہبری' کہا جاتا ہے رہبر اعلیٰ کا انتخاب کرتا ہے۔ ہر آٹھ سال بعد ایران کے لاکھوں شہری اس ادارے کے اراکین کو منتخب کرتے ہیں۔ آخری بار ایسا سنہ 2016 میں ہوا تھا۔لیکن مجلسِ رہبری کے کسی امیدوار کو پہلے شوریٰ نگہبان نامی کمیٹی کی منظوری درکار ہوتی ہے جس کے اراکین کا انتخاب بالواسطہ یا بلاواسطہ موجودہ رہبر اعلیٰ کرتے ہیں۔یہ ظاہر ہے کہ سپریم لیڈر کا اثر و رسوخ شوریٰ نگہبان اور مجلسِ رہبری پر بھی ہوتا ہے۔ گذشتہ تین دہائیوں کے دوران آیت اللہ علی خامنہ ای نے ان کمیٹیوں میں قدامت پسند اکثریت کو یقینی بنایا تھا۔اس وقت اس اسمبلی کے چیئرمین محمد علی موحیدی کرمانی ہیں جبکہ ہاشم حسینی بوشہری اور علی رضا عرفی نائب چیئرمین ہیں۔ ضوابط کے مطابق، مجلسِ رہبری کا اجلاس اس وقت درست ہے جب اس کے کم از کم دو تہائی ارکان (59 افراد) موجود ہوں۔ نئے رہنما کے انتخاب کے لیے اجلاس میں موجود افراد کی دو تہائی اکثریت کے ووٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر صرف 59 ارکان موجود ہوں تو نئے قائد کے انتخاب کے لیے 40 ووٹ کافی ہیں۔،تصویر کا ذریعہGetty Imagesممکنہ امیدواروں کا جائزہ کمیشنمجلسِ رہبری کے ایک کمیشن کا کام ایسے افراد کی اہلیت کا جائزہ لینا ہے جنھیں رہبرِ اعلیٰ کے عہدے کے لیے اہل سمجھا جا سکتا ہے۔اس کمیشن کے اہم ارکان میں شوری نگہبان فقہی کے رکن احمد حسینی خراسانی، شوری نگہبان کے ارکان علی رضا عرفی اور محمد رضا مدرسی یزدی، مجلس رہبری کے پہلے نائب صدر ہاشم حسینی بوشہری، یورپ میں آیت اللہ خامنہ ای کے سابق نمائندے محسن محمدی اراکی، اصفہان میں نمازِ جمعہ کے اما ابوالحسن مہدوی، تین مرتبہ مجلسِ رہبری کے رکن اور اردبیل میں نمازِ جمعہ کے امام حسن آملی شامل ہیں۔انتخاب میں کتنا وقت لگتا ہے؟نئے رہبرِ معظم کے انتخاب کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں ہے اور چونکہ تین رکنی عبوری کونسل کی تشکیل ہو چکی ہے تو کم از کم کاغذات میں، اقتدار کا خلا نہیں ہوگا۔تاہم اسلامی جمہوریہ کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی کی وفات کے بعد کے واقعات کے تجربات سے معلوم ہوتا ہے کہ مجلسِ رہبری کے ارکان نے ان حالات میں جانشین کے انتخاب میں تیزی دکھائی۔آیت اللہ خمینی کا انتقال چار جون 1989 کی شب 10 بجے کے بعد ہوا تھا اور مجلسِ رہبری نے اگلی صبح اجلاس بلا کر چند گھنٹوں میں جانشینی کا فیصلہ کر لیا تھا۔رہبرِ اعلیٰ کے عہدے کی اہمیت،تصویر کا ذریعہGetty Imagesایران کے آئین کے آرٹیکل 57 کے مطابق 'اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت کے تین ادارے ہیں، مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ۔ اور یہ تینوں ادارے ولایت امر اور امت کی رہبریت کی نگرانی میں آئین کی مختلف شقوں کے مطابق کام کرتے ہیں۔'اگرچہ ایران کی سیاست میں تنوّع ہے لیکن ملکی سلامتی اور انقلاب اسلامی کے وجود کو پہلے دن ہی سے مبینہ خطرات کے خدشات کی وجہ سے رہبر اعلیٰ کا منصب عوامی اور سیاسی تحریکوں کا محور بنا رہا ہے۔حالانکہ آئین میں رہبر کی بھی نگرانی کی گنجائش موجود ہے اور اختلافِ رائے بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن رہبر کو انقلاب اسلامی کی علامت سمجھا جاتا ہے اور اس کی مخالفت کو انقلاب سے بغاوت تصور کیا جاتا ہے۔ایرانی آئین کے آرٹیکل 91 کے تحت رہبرِ اعلیٰ 'شوریٰ نگہبان' کے 12 میں سے 6 ارکان کو نامزد کرتے ہیں اور آرٹیکل 157 کے تحت چیف جسٹس کا تقرر بھی کرتا ہے۔آرٹیکل 110 اسےاختیار دیتا ہے کہ وہ 'مجمع تشخیص مصلحت نظام' سے مشاورت کر کے ایران کی عمومی حکمت عملی تشکیل دے۔ اس کے علاوہ حکومت کے پورے نظام کی نگرانی کرے۔ریفرنڈم کرانے کا اختیار بھی رہبر کے پاس ہے۔ وہی پاسدارانِ انقلاب سمیت ایران کی تمام مسلح افواج کے سربراہوں کی تقرری کرتا ہے اور صرف رہبر ہی اعلان جنگ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔صدر مملکت کے انتخابات کے بعد کامیاب امیدوار کا تقررنامہ بھی رہبر کی جانب سے جاری کیا جاتا ہے۔ رہبر کے پاس صدر کو برطرف کرنے کا بھی اختیار ہے لیکن یہ تبھی ممکن ہے اگر چیف جسٹس صدر کو کسی جرم کا مرتکب پائے یا پارلیمان نے صدر کو آرٹیکل 89 کے مطابق نا اہل قرار دے دیا ہو۔اگر حکومت کے مختلف اداروں کے درمیان اختلاف پیدا ہوجائے تو رہبر سے رجوع کیا جاتا ہے۔ تاہم آئین کی تشریح کے لیے 'شورایٰ نگہبان' سے رجوع کیا جاتا ہے۔ ایران کے سرکاری براڈکاسٹنگ کے ادارے کا سربراہ بنانے کا اختیار بھی ان کے پاس ہے۔ رہبر عدلیہ سے سزا پانے والوں کو معاف کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ رہبر اپنے اختیارات کسی اور کو بھی تفویض کر سکتا ہے۔آئین کے آرٹیکل 60 کے مطابق، انتظامیہ کے تمام اختیارات صدر اپنے وزارا کی مدد کے ساتھ استعمال کرنے کا حق رکھتا ہے سوائے ان انتظامی اختیارات کے جو آئین نے رہبر کے لیے مخصوص کیے ہیں۔ تاہم عملاً ایسا ہوتا رہا ہے کہ رہبر مسلح افواج کے سپریم کمانڈر کے اختیارات صدر کو تفویض کردیتا ہے۔رہبر اعلیٰ اور ایران کی مسلح افواج،تصویر کا ذریعہGetty Imagesایران کی مسلح افواج میں سپاہِ پاسداران انقلاب، اور اس کے بری، بحری اور فضائیہ کے دستوں کے علاوہ القدس نامی سٹریٹجک فورس بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ایران کی روایتی مسلح افواج بھی جنھیں 'ارتشِ ایران' (مسلح افواجِ ایران) کہا جاتا ہے وہ بھی ایران کی کی کل فوجی طاقت کا حصہ ہیں۔ ان تمام مسلح افواج کے سپریم کمانڈر رہبرِ اعلیٰ ہیں اور وہی ان کے سربراہو ں کا تقرر کرتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ ایران میں رضاکاروں کی تعداد ایک کروڑ سے بھی زیادہ ہے جسے 'بسیج' کہا جاتا ہے۔ اس کے قیام کا اعلان آیت اللہ خمینی نے کیا تھا اور اس کا مقصد 'انقلابِ اسلامی کو محفوظ بنانا تھا'۔ یہ 'نیروی مقاومت بسیج' کے نام سے بھی جانی جاتی ہے لیکن اس کا سرکاری نام 'سازمان بسیج مستضعفین' ہے۔ابتدا میں تو یہ ایک آزاد ادارہ تھا لیکن بعد میں اسے پاسدارن انقلاب کا حصہ بنا دیا گیا۔ اس کے سربراہ کی تقرری بھی رہبر کرتے ہیں۔ بسیج کی انتظامیہ کا ایک سٹاف ہے جسے ریاستی ملازم کے طور پر تنخواہ ملتی ہے لیکن اس کے عام رضاکار بغیر تنخواہ کے کام کرتے ہیں۔‎آیت اللہ علی خامنہ ای کا جانشین کون ہو سکتا ہے؟علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد یہ سب سے اہم سوال ہے کہ ان کا جانشین کسے مقرر کیا جائے گا۔علی خامنہ ای اپنے پیشرو امام خمینی کی طرح اپنے حامیوں کے علاوہ زیادہ وسیع پیمانے پر اتحاد قائم نہیں کر سکے تھے لیکن انھیں ایرانی فورس پاسداران انقلاب کے اہم کمانڈرز کی حمایت حاصل رہی۔ اس لیے قومی امکان ہے کہ ملک کے نئے رہبرِ اعلیٰ کے انتخاب میں بھی پاسداران انقلاب کی قیادت کا اثر شامل رہ سکتا ہے۔علی خامنہ ای کی زندگی میں بعض لوگوں کا خیال تھا کہ ان کے نزدیک دو امیدوار اہم تھے جن میں ان کے بیٹے مجتبی خامنہ ای اور عدلیہ کے سربراہ ابراہیم رئیسی شامل تھے۔ ان میں سے ابراہیم رئیسی 2024 میں ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔


Share this story

Read Original at bbc.com

Related Articles

bbc.comabout 4 hours ago
Аятола Хаменеї . Як він прийшов до влади - BBC News Україна

Published: 20260301T103000Z

bbc.com3 days ago
گزارش دور سوم گفتگوهای ایران و ایالات متحده در ژنو

Published: 20260227T013000Z

bbc.com3 days ago
عمران خان کی بہن علیمہ خان کو پی ٹی آئی کے وکلا سے شکوے : پارٹی قیادت میں تبدیلی کے امکانات بڑھ گئے ہیں

Published: 20260226T163000Z

bbc.com3 days ago
آیا جنگ احتمالی ایران و آمریکا « محور مقاومت » را فعال می‌کند ؟

Published: 20260226T160000Z

bbc.com3 days ago
Kwanini Putin aliivamia Ukraine ? - BBC News Swahili

Published: 20260226T060000Z

bbc.com6 days ago
Кажуть , тестостерон повертає сексуальний потяг - і жінкам , і чоловікам . Чи правда це

Published: 20260223T104500Z