
dailyaaj.com.pk · Feb 18, 2026 · Collected from GDELT
Published: 20260218T091500Z
اسلام آباد: کینسر کے علاج میں کیمو تھراپی ایک مؤثر طریقہ ہے، لیکن اس کے ساتھ متعدد مضر اثرات بھی وابستہ ہیں، جیسے متلی، قے، بالوں کا جھڑنا، منہ کے چھالے، شدید تھکن اور اعصابی مسائل۔ ماہرین کے مطابق اب ان اثرات کو پہلے کی نسبت زیادہ کم کرنے کے مؤثر طریقے موجود ہیں۔ کیمو تھراپی کے اثرات: کیمو تھراپی کے دوران کینسر کے خلیات کے ساتھ ساتھ صحت مند خلیات بھی متاثر ہو جاتے ہیں، جیسے آنتوں کی اندرونی تہہ کے خلیات یا بالوں کی نشوونما سے متعلق خلیات۔ سفید خون کے خلیات کی کمی کی وجہ سے جسم کا دفاعی نظام کمزور ہو جاتا ہے، جس سے انفیکشن اور سوزش کا خطرہ بڑھتا ہے۔ کچھ ادویات نیوروپیتھی کا سبب بنتی ہیں، جس سے درد، سنسناہٹ، بے حسی اور توازن کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ مضر اثرات کم کرنے کی مؤثر حکمت عملیاں: متلی اور قے کے لیے اینٹی نوزیا ادویات کا استعمال۔ متلی، تھکن اور منہ کے چھالوں کے لیے غذا میں تبدیلی۔ تھکن پر قابو پانے کے لیے ہلکی جسمانی سرگرمی اور بہتر نیند کی عادات اپنانا۔ کیمو تھراپی سے متعلق درد کے لیے درد کم کرنے والی ادویات استعمال کرنا۔ مریض کی علامات کے مطابق ڈاکٹر کی رہنمائی میں حکمت عملی اپنانا۔ روایتی اور متبادل طریقے: محققین ایسے طریقے تلاش کر رہے ہیں جو کیمو کے مضر اثرات کو مزید کم کریں۔ ادرک جیسی جڑی بوٹیاں یا ایکیوپنکچر مضر اثرات کو نسبتا کم کرنے کے لیے زیرِ غور ہیں۔ یوگا کے فوائد کے ساتھ جوڑوں اور پٹھوں میں معمولی درد ہو سکتا ہے، لیکن یہ مجموعی صحت اور تھکن کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق کیمو تھراپی اب بھی کینسر کے علاج کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے، لیکن جدید اور روایتی حکمت عملیوں کے ذریعے مضر اثرات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے، تاکہ مریض کی زندگی کی کوالٹی بہتر ہو۔