
dailyaaj.com.pk · Feb 15, 2026 · Collected from GDELT
Published: 20260215T223000Z
بنگلادیش کے پارلیمانی انتخابات میں کامیابی کے بعد بنگلادیش نیشلسٹ پارٹی (بی این پی) کے سربراہ طارق رحمان نے بنگلادیش جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان سے ان کے گھر پر ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد جاری ہونے والے بیان میں ڈاکٹر شفیق الرحمان نے طارق رحمان کو بنگلادیش کے مستقبل کے وزیراعظم کے طور پر پیشگی مبارکباد دی اور کہا کہ ان کی آج کی آمد قومی سیاست کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے۔ ڈاکٹر شفیق الرحمان نے اپنے بیان میں کہا کہ "میرا خواب ایک ایسے بنگلادیش کا ہے جو فسطائیت سے پاک، خودمختار اور عدل و انصاف کی بنیاد پر قائم ہو۔" انہوں نے مزید کہا کہ طارق رحمان نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ انتخابات کے بعد ہونے والے تشدد اور اپوزیشن کارکنوں و اقلیتی برادریوں پر حملوں کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔ طارق رحمان نے اس یقین دہانی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ "ہماری توقع ہے کہ کوئی بھی شہری خوف یا عدم تحفظ کا شکار نہ ہو۔" ملاقات میں جماعتِ اسلامی کے امیر نے کہا کہ ان کی جماعت قومی مفاد کے معاملات میں منتخب حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی، تاہم وہ اپنے آئینی فرائض کی ادائیگی میں کسی بھی طرح کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ الیکشن کمیشن بنگلادیش کے جاری کردہ سرکاری نتائج کے مطابق، 299 نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں بی این پی نے 209 نشستیں جیت کر واضح برتری حاصل کی ہے، جبکہ جماعت اسلامی 68 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے۔ طلبہ کی جماعت این سی پی نے 6 نشستیں حاصل کی ہیں۔