NewsWorld
PredictionsDigestsScorecardTimelinesArticles
NewsWorld
HomePredictionsDigestsScorecardTimelinesArticlesWorldTechnologyPoliticsBusiness
AI-powered predictive news aggregation© 2026 NewsWorld. All rights reserved.
Trending
TrumpTariffTradeLaunchAnnouncePricesStrikesMajorFebruaryChinaMarketCourtNewsDigestSundayTimelineHongKongServiceMilitaryTechSafetyGlobalOil
TrumpTariffTradeLaunchAnnouncePricesStrikesMajorFebruaryChinaMarketCourtNewsDigestSundayTimelineHongKongServiceMilitaryTechSafetyGlobalOil
All Articles
مصنوعی ذہانت چند طاقتوں کی جاگیر نہیں بن سکتی : عالمی فنڈ کے قیام کا مطالبہ – The Indian Awaaz
theindianawaaz.com
Published about 21 hours ago

مصنوعی ذہانت چند طاقتوں کی جاگیر نہیں بن سکتی : عالمی فنڈ کے قیام کا مطالبہ – The Indian Awaaz

theindianawaaz.com · Feb 21, 2026 · Collected from GDELT

Summary

Published: 20260221T201500Z

Full Article

Last Updated on February 22, 2026 12:12 am by AMNاقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل Antonio Guterres نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا مستقبل چند ممالک یا چند ارب پتی افراد کے مفادات تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ ان کے مطابق جدید ٹیکنالوجی تک مساوی اور منصفانہ رسائی یقینی بنانے کے لیے ایک عالمی فنڈ کا قیام ناگزیر ہے، تاکہ ترقی پذیر ممالک بھی اس انقلاب کا حصہ بن سکیں۔انہوں نے نئی دہلی میں منعقدہ India AI Impact Summit 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر مہارتوں کی ترقی، معلوماتی استعداد میں اضافے، سستی کمپیوٹنگ سہولیات کی فراہمی اور جامع ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام کی تشکیل پر فوری سرمایہ کاری نہ کی گئی تو دنیا کے کئی ممالک مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل خلیج کو کم کیے بغیر عالمی ترقی کا خواب ادھورا رہے گا۔سیکرٹری جنرل نے تجویز دی کہ جدید ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی کے لیے تقریباً تین ارب ڈالر کا عالمی فنڈ قائم کیا جائے۔ ان کے مطابق یہ رقم کسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنی کی سالانہ آمدنی کے ایک فیصد سے بھی کم ہے، لیکن اس کے ذریعے مصنوعی ذہانت کے فوائد کو عالمی سطح پر عام کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اسے ایک معمولی سرمایہ کاری قرار دیا جس کے بدلے دنیا بھر کے لوگوں کو غیر معمولی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔مصنوعی ذہانت کا مؤثر عالمی انتظامانتونیو گوتیرش نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اقوام متحدہ مصنوعی ذہانت کے مؤثر اور ذمہ دارانہ انتظام کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہی ہے۔ گزشتہ سال جنرل اسمبلی کے تحت ایک آزاد بین الاقوامی سائنسی پینل قائم کیا گیا، جس میں 40 عالمی ماہرین شامل ہیں۔ یہ پینل مصنوعی ذہانت سے وابستہ خطرات، مواقع اور سماجی اثرات کا تجزیہ کرے گا اور پالیسی سازی کے لیے شواہد فراہم کرے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ مصنوعی ذہانت سب کی مشترکہ ملکیت ہونی چاہیے۔ اس مقصد کے لیے رکن ممالک، صنعتوں اور سول سوسائٹی کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ اس ٹیکنالوجی کا استعمال انسانی فلاح کے لیے یقینی بنایا جا سکے۔انسانی اختیار، نگرانی اور جوابدہیسیکرٹری جنرل نے مصنوعی ذہانت کے ضوابط کے حوالے سے عالمی مکالمے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسے قوانین درکار ہیں جو انسانی اختیار، نگرانی اور جوابدہی کو برقرار رکھیں۔ ان کے مطابق اے آئی کو اگر درست طریقے سے بروئے کار لایا جائے تو یہ پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) کے حصول میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔یہ ٹیکنالوجی طبی تحقیق میں پیش رفت کو تیز کر سکتی ہے، تعلیم کے مواقع وسیع بنا سکتی ہے، غذائی تحفظ کو بہتر کر سکتی ہے، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور آفات کی تیاری کو مضبوط بنا سکتی ہے اور عوامی خدمات تک رسائی کو آسان بنا سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس کی ترقی بے قابو رہی تو عدم مساوات میں اضافہ، تعصبات کی تقویت اور دیگر سماجی مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ماحول دوست توانائی اور انسانی سرمایہ کاریانہوں نے توجہ دلائی کہ مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ کے ساتھ توانائی اور پانی کی طلب میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس لیے ڈیٹا مراکز اور سپلائی چین کو قابل تجدید اور ماحول دوست توانائی کی طرف منتقل کرنا ضروری ہے، اور اس کا بوجھ کمزور طبقات پر نہیں پڑنا چاہیے۔سیکرٹری جنرل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کارکنوں کی مہارتوں میں سرمایہ کاری کی جائے تاکہ مصنوعی ذہانت روزگار ختم کرنے کے بجائے انسانی صلاحیتوں کو بڑھانے کا ذریعہ بنے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو استحصال، چالبازی اور بدسلوکی سے محفوظ رکھا جانا چاہیے اور کوئی بھی بچہ غیر منضبط مصنوعی ذہانت کا تجرباتی میدان نہ بنے۔اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کو انسانی زندگی میں بہتری اور کرۂ ارض کے تحفظ کا ذریعہ ہونا چاہیے۔ دنیا کو ایسی مصنوعی ذہانت درکار ہے جو سب کے لیے ہو، جس کی بنیاد انسانی وقار، مساوات اور مشترکہ ذمہ داری پر قائم ہو۔ Post navigation


Share this story

Read Original at theindianawaaz.com

Related Articles

theindianawaaz.comabout 21 hours ago
खजूर : प्रकृति का अनमोल उपहार – भोजन भी , औषधि भी , बरकत भी – The Indian Awaaz

Published: 20260221T201500Z

theindianawaaz.comabout 21 hours ago
Jitendra Singh says India is entering a new era of genomics and gene therapy – The Indian Awaaz

Published: 20260221T201500Z

theindianawaaz.com5 days ago
India – France Joint Statement – The Indian Awaaz

Published: 20260217T211500Z

theindianawaaz.com7 days ago
International AYUSH Conference and Exhibition 2026 begins at Dubai World Trade Centre – The Indian Awaaz

Published: 20260215T203000Z

theindianawaaz.com7 days ago
Unani Day clebrations showcase innovation and evidence - based medicine – The Indian Awaaz

Published: 20260215T203000Z

theindianawaaz.com7 days ago
یونانی طب کو جدید سائنس سے جوڑنے کی سمت بڑا قدم – The Indian Awaaz

Published: 20260215T203000Z